“Alas, the fate of that man who became a partner to the heart; alas, the destiny of that heart which came to be mine.”
افسوس اس شخص کی قسمت پر جو اس دل کا شریک بنا، اور ہائے اس دل کے نصیب پر جو میرا دل بنا۔
اس شعر میں شاعرہ اپنے حساس اور بے چین دل کے المیے کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتی ہیں۔ وہ پہلے تو اُس شخص کی قسمت پر افسوس کرتی ہیں جو اُن کے دل کا ہم سفر بنا، کیونکہ اس تعلق میں اسے ایک طوفان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مگر اس سے بھی بڑا دکھ انہیں خود اپنے دل کے مقدر پر ہے، جو اُن جیسی پرآشوب اور پُردست و گریباں ہستی کا حصہ بن گیا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
