کچھ کھٹکتا تو ہے پہلو میں مرے رہ رہ کر اب خدا جانے تری یاد ہے یا دل میرا

“Something keeps pricking in my breast time and again; now God alone knows whether it is your memory or this heart of mine.”

— جگر مرادآبادی
معنی

میرے سینے میں بار بار کچھ چبھتا تو ہے، اب خدا ہی جانے کہ یہ تمہاری یاد ہے یا میرا دل۔

تشریح

شاعر اپنے سینے میں بار بار اٹھنے والی اس دھیمی دھیمی کسک کا ذکر کر رہا ہے جو چین لینے نہیں دیتی۔ جدائی کی کیفیت ایسی ہو چکی ہے کہ دل کی دھڑکن اور محبوب کی یاد کے بیچ کا فاصلہ ہی مٹ گیا ہے، اب معلوم ہی نہیں پڑتا کہ پہلو میں دل تڑپ رہا ہے یا اس کی یاد چبھ رہی ہے۔ یہ شعر عشق کے اس عالم کو خوبصورتی سے سمیٹتا ہے جہاں درد اور عاشق کا اپنا وجود ایک ہو جاتے ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.