مل گئی عشق میں ایذا طلبی سے راحت غم ہے اب جان مری درد ہے اب دل میرا

“In love, from seeking torment I have found relief at last: grief is now my very soul, and pain has become my heart.”

— جگر مرادآبادی
معنی

عشق میں تکلیف چاہنے کی عادت سے مجھے سکون مل گیا ہے؛ اب غم میری جان اور درد میرا دل بن چکا ہے۔

تشریح

اس شعر میں شاعر عشق کی اس انتہا کو بیان کر رہا ہے جہاں دکھ اور عاشق کا وجود ایک ہو جاتے ہیں۔ پہلے وہ اپنے عشق کے ثبوت کے لیے خود کو اذیت دینے کا متلاشی رہتا تھا، مگر اب غم اس کی روح اور درد اس کا دل بن چکا ہے۔ جب تکلیف باہر کی چیز رہنے کے بجائے انسان کا اپنا وجود بن جائے، تو ساری تڑپ اور بے چینی مٹ جاتی ہے اور ایک عجیب، گہرا سکون مل جاتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.