“Barefoot, man, blind with arrogance, strides;In the scorching noon, he revels in wild joys.”
ننگے پاؤں انسان غرور میں اندھا ہو کر چلتا ہے۔ تپتی دوپہر میں بھی وہ جنگل کے بے پرواہ لطف اٹھاتا ہے۔
ذرا تصور کریں کہ کوئی شخص اپنے غرور میں اس قدر مست ہے کہ وہ چلچلاتی دھوپ میں ننگے پاؤں چل رہا ہے، گویا اسے گرمی یا کسی بھی ممکنہ نقصان کی کوئی پرواہ ہی نہیں! یہ شعر انسانی تکبر کو بڑی خوبصورتی سے بیان کرتا ہے، جہاں ایک شخص، خود نمائی کے اندھے پن میں، مشکل ترین حالات میں بھی عارضی خوشیوں میں مگن رہتا ہے۔ یہ ایک لطیف یاد دہانی ہے کہ کبھی کبھی، ہمارا انا ہمیں اپنے ارد گرد کی حقیقی مشکلات سے غافل کر دیتا ہے، جس سے ہم بھٹک سکتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
