“Overturn every law of nature, O beloved! O Vaishakhi inferno! Come, O beloved!”
اے دلدار! قدرت کے تمام قوانین کو الٹ دو۔ اے بیساکھ کی جنگل کی آگ! آؤ، اے دلدار!
یہ شعر دل سے نکلی ہوئی ایک بہت ہی جوش بھری پکار ہے، ہے نا؟ شاعر اپنے محبوب کے عشق میں اس قدر ڈوبا ہوا ہے کہ وہ اُن سے قدرت کے سارے قاعدے قانون بدلنے کو کہہ رہے ہیں، جو بتاتا ہے کہ محبوب کی موجودگی اُن کے لیے کسی بھی چیز سے زیادہ طاقتور اور تبدیلی لانے والی ہے۔ اور پھر، محبوب کو 'ویشاکھی داوانل' کہنا کتنا خوبصورت اور تیز ہے – یہ ایسے پیار کی بات کرتا ہے جو آگ کی طرح تیزی سے جلتا ہے، شاید گرمیوں کی جنگل کی آگ جتنا شدید اور غالب، پھر بھی اُسے پوری شدت سے چاہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسے عشق کا دعوت نامہ ہے جو سب کچھ ختم کر دینے والا اور بدلنے والا ہے۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
