“Who brings solace to the agitated soul?My mind, a peacock, dances, losing all control.”
پریشان روح کو کون سکون دے گا؟ میرا دل مور کی طرح جوش و خروش سے ناچتا ہے۔
یہ شعر روح کی گہری بے چینی اور دل کی ایک جیتی جاگتی کیفیت کو خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔ پہلی سطر میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ اس بے چین روح کو سکون کون دے گا، لیکن پھر جواب میں دل ایک ناچتے ہوئے مور کی طرح ہو جاتا ہے جو تھنکاٹ کرتا ہے، گویا اپنا ہوش کھو کر ناچ رہا ہو۔ یہ دکھاتا ہے کہ اگرچہ روح بے قرار ہے، دل اپنے ہی شدید، بے قابو رقصِ جذبات میں غرق ہو جاتا ہے، اور شاید اسی میں اسے ایک منفرد، آزاد کر دینے والا اظہار ملتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
