“Do not contort your face, dear one, at these forest flowers; For on the Flute-player's head, they shone with priceless worth.”
جنگل کے ان پھولوں کو دیکھ کر اپنا منہ نہ بگاڑو؛ کیونکہ بانسری والے (بھگوان کرشن) کے سر پر یہ انمول چمکتے تھے۔
یہ دوہا ہمیں سکھاتا ہے کہ جنگل کے سادہ پھولوں کو دیکھ کر کبھی ناک بھوں نہیں چڑھانی چاہیے۔ یہ تصور کرتا ہے کہ جب بانسری بجانے والے (شری کرشن) انہیں اپنے سر پر سجاتے تھے، تو وہ انمول شان پاتے تھے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سچی خوبصورتی اور قدر اکثر عام چیزوں میں پوشیدہ ہوتی ہے، اور ہمیں ہر چھوٹی چیز میں عظمت کو پہچاننا چاہیے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
