“The school bell rings, the pava-playing cart drifts far away;In such a morning's early light, I once beheld a Santal woman.”
اسکول کی گھنٹی بجتی ہے اور پاوا بجاتی ہوئی گاڑی دور نکل جاتی ہے۔ ایسی ہی ایک صبح کی پو پھٹنے پر، میں نے ایک دن ایک سنتال عورت کو دیکھا۔
یہ دوہا صبح کے عام مناظر کو خوبصورتی سے پیش کرتا ہے۔ ایک طرف اسکول کی گھنٹی بجتی ہے، جو روزمرہ کے معمول اور شہری زندگی کی علامت ہے، وہیں دوسری طرف 'پاوا' بجاتی ہوئی گاڑی دور جاتی ہوئی لوک ثقافت اور روایتی زندگی کی ایک میٹھی لیکن مٹتی ہوئی دھن کو دکھاتی ہے۔ ایسے ہی پُرسکون اور فانی سحر میں شاعر کو ایک سنتال عورت نظر آتی ہے۔ وہ ایک لازوال خوبصورتی اور فطرت سے جڑی زندگی کی علامت بن جاتی ہے، جسے شاعر نے بدلتے وقت کے درمیان ایک انمول لمحے میں دیکھا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
