“When Pandu's son turned Khandava forest to ash that day,Millions of innocent serpents were roasted away, oh ji.”
جب پانڈو کے بیٹے نے اُس دن کھانڈو جنگل کو راکھ کر دیا، تو لاکھوں بے گناہ سانپ بھسم ہو گئے۔
یہ دوہا مہابھارت کے ایک دل دہلا دینے والے واقعے کی عکاسی کرتا ہے۔ اس میں اُس دن کو یاد کیا گیا ہے جب پانڈو کے بیٹے ارجن نے کھانڈو جنگل کو جلا کر خاک کر دیا تھا۔ اس عظیم عمل کے دوران، لاکھوں بے گناہ سانپ، جو اُس جنگل میں رہتے تھے، بھی آگ کی لپیٹ میں آ کر ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بڑی انسانی کوششوں کے اکثر قدرتی دنیا اور اس کے معصوم باسیوں کے لیے کِس قدر تباہ کن نتائج ہو سکتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
