“I chanted 'Peace! Peace! Peace!' my heart did call, From virtue's path, I never strayed at all.”
میں نے 'صلح! صلح! صلح!' کا ورد کیا۔ میں نیکی کے راستے سے ذرا بھی نہیں ہٹا۔
یہ شعر امن کے لیے دل کی گہری لگن کو خوبصورتی سے پیش کرتا ہے، جہاں شاعر "صلح! صلح! صلح!" کا ورد کرتے ہوئے اپنے دل کی پکار کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ امن کی یہ شدید خواہش محض ایک تمنا نہیں بلکہ نیکی اور نیک چلنی کے راستے پر مضبوطی سے چلتے ہوئے حاصل کی جاتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ انہوں نے کبھی بھی نیکی کے راستے سے قدم نہیں ہٹایا، جس کا مطلب ہے کہ حقیقی امن اور ایمانداری ایک دوسرے کے لازم و ملزوم ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
