“Yet the sting from your heart finds no relief, Though you deal not in 'terror, oppression, or grief'.”
تو بھلے ہی 'ڈرانے، دبانے یا تڑپانے' کا سہارا نہیں لیتا، پھر بھی تیرے دل سے پیدا ہونے والی چبھن (یا تکلیف) کم نہیں ہوئی۔
یہ شعر دل کے ایک ایسے درد کو خوبصورتی سے بیان کرتا ہے جو گہرا اور دیرپا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ تمہارے دل سے لگا یہ زخم، یہ ڈنک، مٹتا ہی نہیں، بھلے ہی تم ہمیں ڈراؤ نہیں، دباؤ نہیں یا براہ راست کوئی تکلیف نہ دو۔ اس میں ایک لطیف تکلیف کا احساس ہے، جو بظاہر ظلم و ستم سے نہیں، بلکہ شاید تمہاری بے حسی یا جذباتی دوری سے پیدا ہوتی ہے، اور یہ کسی بھی بیرونی جبر سے کہیں زیادہ چبھتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
