دل و نظر کا سفینہ سنبھال کر لے جا — علامہ اقبال
دل و نظر کا سفینہ سنبھال کر لے جا
مہ و ستارہ ہیں بحر وجود میں گرداب
“Take care of the vessel of the heart and the gaze, For the ocean of existence is a whirlpool of moon and stars.”
— علامہ اقبال
معنی
دل اور نظر کا سفینہ سنبھال کر لے جا، محو ستارہ ہیں بحرِ وجود میں گرداب۔
تشریح
یہ شعر دل اور نظر کی نازک کشتی کو سنبھال کر چلنے کی نصیحت کرتا ہے۔ وجود کا سمندر... وہ تو چاند اور ستارے سے بھرا ایک بڑا گرداب ہے۔ یہ زندگی کے ہر جذبے کی شدت کو بیان کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
