غزل

रहा न हल्क़ा-ए-सूफ़ी में सोज़-ए-मुश्ताक़ी

रहा न हल्क़ा-ए-सूफ़ी में सोज़-ए-मुश्ताक़ी
علامہ اقبال· Ghazal· 7 shers

یہ غزل صوفی محبت اور روحانی اشتیاق کی مسلسل لہر کو بیان کرتی ہے، جس میں شاعر کہتا ہے کہ صوفی حلقے میں بھی شوق کی آگ بجھ نہیں سکتی۔ یہ دنیاوی اور مذہبی دکھاوے پر تنقید کرتی ہے، اور ایک ایسے عالمِ حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے جو ایک دن سب کو شرمندہ کر دے گا۔ آخر کار، یہ تمام زبانوں اور حدود سے بالاتر ہو کر، ایک کائنات کے فراگیر روحانی تجربے کی بات کرتی ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
रहा न हल्क़ा-ए-सूफ़ी में सोज़-ए-मुश्ताक़ी फ़साना-हा-ए-करामात रह गए बाक़ी
رہا نہ حلقۂ صوفی میں سوز مشتاقی فسانہ ہائے کرامات رہ گئے باقی
حلقۂ صوفی میں سوزِ مشتاقی باقی نہ رہا، صرف قصےِ کرامات باقی ہیں۔
2
ख़राब कोशक-ए-सुल्तान ओ ख़ानक़ाह-ए-फ़क़ीर फ़ुग़ाँ कि तख़्त ओ मुसल्ला कमाल-ए-रज़्ज़ाक़ी
خراب کوشک سلطان و خانقاہ فقیر فغاں کہ تخت و مصلیٰ کمال رزاقی
اے غریب خزانۂ سلطان اور خانقاہِ فقیر، کیا تخت و مصلى رज़्ज़ाक़ی کے کمال ہیں؟
3
करेगी दावर-ए-महशर को शर्मसार इक रोज़ किताब-ए-सूफ़ी-ओ-मुल्ला की सादा-औराक़ी
کرے گی داور محشر کو شرمسار اک روز کتاب صوفی و ملا کی سادہ اوراقی
ایک دن وہ صوفی اور ملاح کی کتاب کے سادہ ورقوں سے محشر کے دروازے کو شرمندہ کر دے گی۔
4
न चीनी ओ अरबी वो न रूमी ओ शामी समा सका न दो आलम में मर्द-ए-आफ़ाक़ी
نہ چینی و عربی وہ نہ رومی و شامی سما سکا نہ دو عالم میں مرد آفاقی
نہ چینی اور نہ عربی، نہ رومی اور نہ شامی، دو عالم میں مردِ آفاقی کو فتح کر سکا۔
5
मय-ए-शबाना की मस्ती तो हो चुकी लेकिन खटक रहा है दिलों में करिश्मा-ए-साक़ी
مے شبانہ کی مستی تو ہو چکی لیکن کھٹک رہا ہے دلوں میں کرشمۂ ساقی
شبانہ کی مستی تو ہو چکی ہے، مگر ابھی بھی ساقی کا جادو دلوں میں چبھ رہا ہے۔
6
चमन में तल्ख़-नवाई मिरी गवारा कर कि ज़हर भी कभी करता है कार-ए-तिर्याक़ी
چمن میں تلخ نوائی مری گوارا کر کہ زہر بھی کبھی کرتا ہے کار تریاقی
چمن میں تلخ نوائی میری گوارا کر، کہ زہر بھی کبھی کرتا ہے کارِ تیریاقی۔ یعنی، میرے دل کی کڑواہٹ کو قبول کر لینا، کیونکہ زہر بھی کبھی کبھی زندگی دینے والی دوا کا کام کرتا ہے۔
7
अज़ीज़-तर है मता-ए-अमीर-ओ-सुल्ताँ से वो शेर जिस में हो बिजली का सोज़-ओ-बर्राक़ी
عزیز تر ہے متاع امیر و سلطاں سے وہ شعر جس میں ہو بجلی کا سوز و براقی
امیر و سلطان کے ماتھے سے وہ شعر زیادہ عزیز ہے جس میں بجلی کا سوز و برقا ہو۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.