غزل

ने मोहरा बाक़ी ने मोहरा-बाज़ी

ने मोहरा बाक़ी ने मोहरा-बाज़ी
علامہ اقبال· Ghazal· 7 shers

یہ غزل زندگی کی غیر یقینی اور چالاکی سے بھرپور نوعیت کی عکاسی کرتی ہے، جہاں جیت اور ہار دونوں عارضی ہیں۔ یہ بتاتی ہے کہ شان و شوکت کے پردے کے پیچھے ایک سچائی چھپی ہے، اور ہر کسی کو اپنی حقیقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
10
1
ने मोहरा बाक़ी ने मोहरा-बाज़ी जीता है 'रूमी' हारा है 'राज़ी'
اس کا لفظی مطلب ہے کہ باقی نے موہرا بازی جیت لی ہے، اور 'رومی' 'رازی' سے ہار گیا ہے۔
2
रौशन है जाम-ए-जमशेद अब तक शाही नहीं है बे-शीशा-बाज़ी
جمشید کا جام ابھی بھی روشن ہے، مگر خالی کھیل کی فنکاری اب شاہی نہیں ہے۔
3
दिल है मुसलमाँ मेरा तेरा तू भी नमाज़ी मैं भी नमाज़ी
میرا دل مسلم ہے، نہ تیرا نہ میرا۔ تو بھی نمازی نہیں اور میں بھی نمازی نہیں۔
4
मैं जानता हूँ अंजाम उस का जिस मारके में मुल्ला हों ग़ाज़ी
میں جانتا ہوں اس کا انجام، جو ملاح کو غازی کے طور پر مارتا ہے۔
5
तुर्की भी शीरीं ताज़ी भी शीरीं हर्फ़-ए-मोहब्बत तुर्की ताज़ी
تُرکی بھی شیریں، تازہ بھی شیریں، حرفِ محبت نہ تُرکی ہے نہ تازہ۔
6
आज़र का पेशा ख़ारा-तराशी कार-ए-ख़लीलाँ ख़ारा-गुदाज़ी
عَزر کا پیشہ کھارا-تراشی ہے، اور خلیلوں کا کام کھارا-گُدازی ہے۔
7
तू ज़िंदगी है पाएँदगी है बाक़ी है जो कुछ सब ख़ाक-बाज़ी
تُو زندگی ہے، تُو ہی وجود کا دھاگا ہے۔ باقی جو کچھ ہے وہ سب دھول اور فریب ہے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

ने मोहरा बाक़ी ने मोहरा-बाज़ी | Sukhan AI