Sukhan AI
غزل

न आते हमें इस में तकरार क्या थी

न आते हमें इस में तकरार क्या थी
علامہ اقبال· Ghazal· 6 shers

یہ غزل ایک غیر حل شدہ محبت اور الجھاؤ بھرے رشتے کے بارے میں ہے، جہاں شاعر اس تنازع یا ٹکراؤ کی وجہ پوچھتا ہے۔ وہ یاد کرتا ہے کہ کیسے وعدے کیے گئے تھے اور کیسے تمام راز کھول دیے گئے۔ غزل میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا یہ سب محفل میں عاشق کو طعنہ دینے جیسا تھا، یا محض انکار کرنے کا ایک انداز تھا۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
न आते हमें इस में तकरार क्या थी मगर वा'दा करते हुए आर क्या थी
ہمیں اس میں کوئی جھگڑا نہیں تھا، مگر کیے گئے وعدے کا کیا تھا؟
2
तुम्हारे पयामी ने सब राज़ खोला ख़ता इस में बंदे की सरकार क्या थी
اگر آپ کے پیغامبر نے سارے راز کھول دیے، تو اس میں آپ کے محبوب کی حالت میں کیا عیب تھا۔
3
भरी बज़्म में अपने आशिक़ को ताड़ा तिरी आँख मस्ती में हुश्यार क्या थी
بھری بزم میں، میں نے اپنے محبوب کو پکارا، اے! تمہاری مستی میں تمہاری آنکھیں کتنی ہوشیار تھیں۔
5
खिंचे ख़ुद-बख़ुद जानिब-ए-तूर मूसा कशिश तेरी ऐ शौक़-ए-दीदार क्या थी
میں خود بخود جانِ طیٰور کی طرف کھنچا چلا گیا۔ تیری دیدار کی چاہت کیا تھی؟
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.