غزل
मिरी नवा से हुए ज़िंदा आरिफ़ ओ आमी
मिरी नवा से हुए ज़िंदा आरिफ़ ओ आमी
یہ غزل ایک پرجوش اظہارِ محبت ہے جس میں شاعر (عارف وامی) اپنی محبوبہ (نوا) کے عشق سے دوبارہ زندہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ وہ اس محبت کی شدید اور تبدیلی بخش نوعیت کو بیان کرتا ہے، جس کا موازنہ وہ ایک پاک کرنے والی آگ سے کرتا ہے، اور اس کے وجود سے پیدا ہونے والی گہرے جذباتی اور روحانی حالات کا جائزہ لیتا ہے۔
نغمہ سنیں
1
मिरी नवा से हुए ज़िंदा आरिफ़ ओ आमी
दिया है मैं ने उन्हें ज़ौक़-ए-आतिश आशामी
مری نوا سے ہوئے زندہ عارف و عامی
دیا ہے میں نے انہیں ذوق آتش آشامی
میری نوا سے ہوئے زندہ عارف و آمی کو دیا ہے میں نے انہیں ذوقِ آتش آشامی۔
2
हरम के पास कोई आजमी है ज़मज़मा-संज
कि तार तार हुए जामा हाए एहरामी
حرم کے پاس کوئی اعجمی ہے زمزمہ سنج
کہ تار تار ہوئے جامہ ہائے احرامی
حرم کے پاس کوئی ایسا بہادر شخص ہے جو زما زما سنج ہو، کہ اس گھر کے پھٹے ہوئے کپڑے کو سد دے۔
3
हक़ीक़त-ए-अबदी है मक़ाम-ए-शब्बीरी
बदलते रहते हैं अंदाज़-ए-कूफ़ी ओ शामी
حقیقت ابدی ہے مقام شبیری
بدلتے رہتے ہیں انداز کوفی و شامی
حقیقتِ ابدی ہے مقامِ شببیری،
بَدلتے رہتے ہیں اندازِ کوفی و شامی۔
4
मुझे ये डर है मुक़ामिर हैं पुख़्ता-कार बहुत
न रंग लाए कहीं तेरे हाथ की ख़ामी
مجھے یہ ڈر ہے مقامر ہیں پختہ کار بہت
نہ رنگ لائے کہیں تیرے ہاتھ کی خامی
مجھے یہ ڈر ہے کہ محاذ بہت مضبوط ہیں، کہیں تیرے ہاتھ کی خامی سے کوئی رنگ نہ آ جائے۔
5
अजब नहीं कि मुसलमाँ को फिर अता कर दें
शिकवा-ए-संजर ओ फ़क़्र-ए-जुनेद ओ बस्तामी
عجب نہیں کہ مسلماں کو پھر عطا کر دیں
شکوہ سنجر و فقر جنید و بسطامی
عجب نہیں کہ مسلم کو پھر سے سنجر کی شکایت، جنید کی فقر، اور بستیامی کا جنون عطا کر دیا گیا۔
6
क़बा-ए-इल्म ओ हुनर लुत्फ़-ए-ख़ास है वर्ना
तिरी निगाह में थी मेरी ना-ख़ुश अंदामी
قبائے علم و ہنر لطف خاص ہے ورنہ
تری نگاہ میں تھی میری نا خوش اندامی
علم و فن کا یہ چادر ایک خاص کرم ہے، ورنہ تیری نگاہ میں میرا ناپسند جسم تھا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
