عجب نہیں کہ مسلماں کو پھر عطا کر دیں — علامہ اقبال
عجب نہیں کہ مسلماں کو پھر عطا کر دیں
شکوہ سنجر و فقر جنید و بسطامی
“It is not surprising that they bestowed upon the Muslim man again, The complaint of Sanjar, the poverty of Junayd, and the passion of Bistami.”
— علامہ اقبال
معنی
عجب نہیں کہ مسلم کو پھر سے سنجر کی شکایت، جنید کی فقر، اور بستیامی کا جنون عطا کر دیا گیا۔
تشریح
یہ شعر روحانی صبر اور دکھ کی قبولیت کا پیغام دیتا ہے۔ شاعر کہہ رہے ہیں کہ یہ کوئی عجوبہ نہیں کہ انسان کو ساجر، جنید اور بستامی جیسے بزرگوں کے غم و فقر کو قبول کرنا پڑتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ زندگی میں ہر طرح کی تکلیفیں قبول کرنی پڑتی ہیں، یہی انسانی حال ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
