غزل
मेरी नवा-ए-शौक़ से शोर हरीम-ए-ज़ात में
मेरी नवा-ए-शौक़ से शोर हरीम-ए-ज़ात में
یہ غزل عاشق کے شدید عشق اور جنون کو بیان کرتی ہے، جس میں وہ اپنی ذات کے اندر (حریمِ ذات) اپنے پیار کی وجہ سے پیدا ہونے والے شور و غل کا ذکر کرتا ہے۔ شاعر بتاتا ہے کہ اس کا عشق اتنا گہرا ہے کہ وہ نہ صرف اپنی تخیلات اور نگاہ میں محبوب کو دیکھتا ہے، بلکہ اپنی چاہت میں کعبہ اور سمنات جیسے مقدس مقامات کی جستجو بھی کرتا ہے۔ یہ عشق کبھی چبھتی ہوئی نگاہ کی طرح، تو کبھی الجھا دینے والے جذبات کی طرح محسوس ہوتا ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
मेरी नवा-ए-शौक़ से शोर हरीम-ए-ज़ात में
ग़ुल्ग़ुला-हा-ए-अल-अमाँ बुत-कदा-ए-सिफ़ात में
میری نَوَا-ए-شوق سے شور حریمِ ذات میں، غُلگُلا-ہا-ए-ال-اماں بتکَدا-ए-صفات میں۔
2
हूर ओ फ़रिश्ता हैं असीर मेरे तख़य्युलात में
मेरी निगाह से ख़लल तेरी तजल्लियात में
آپ میری تخیلات میں ایک حور اور فرشتہ ہیں، اور میری نگاہ سے آپ کی تجلیات میں ایک خَلل ہے۔
3
गरचे है मेरी जुस्तुजू दैर ओ हरम की नक़्शा-बंद
मेरी फ़ुग़ाँ से रुस्तख़ेज़ काबा ओ सोमनात में
اگرچہ میری جستجو دائر اور حرم کا نقشہ بند ہے، میری فغاں سے رُستخیز کعبہ اور سمنات میں۔
4
गाह मिरी निगाह-ए-तेज़ चीर गई दिल-ए-वजूद
गाह उलझ के रह गई मेरे तवहहुमात में
کبھی میری نگاہِ تیز نے دلِ وجود کو چیر دیا، اور کبھی وہ میرے توَہہومات میں الجھ کر رہ گئی۔
5
तू ने ये क्या ग़ज़ब किया मुझ को भी फ़ाश कर दिया
मैं ही तो एक राज़ था सीना-ए-काएनात में
تم نے کیا کمال کر دیا، مجھے بھی ظاہر کر دیا۔ میں تو کائنات کے سینے میں چھپا ایک راز تھا۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
