غزل
खो न जा इस सहर ओ शाम में ऐ साहिब-ए-होश
खो न जा इस सहर ओ शाम में ऐ साहिब-ए-होश
یہ غزل ایک گہرے جذباتی اور روحانی التجا کا اظہار کرتی ہے، جس میں شاعر کو مخاطب کیا گیا ہے کہ وہ صبح اور شام کے لمحات میں کھو نہ جائے۔ اس میں زندگی کی عدم یقینی اور ایک پراسرار 'فردہ' کے مقام پر غور کیا گیا ہے، جہاں کئی مقامات (مسجد، مکتب، مے خانہ) خاموش ہیں۔ شاعر نے آنسوؤں کی صبح میں ایک ایسی حالت پائی ہے جو 'ناب' سے دور ہے، اور حقیقی تہذیب دکھاوے یا جھوٹے زیورات کی فروخت سے پر ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
खो न जा इस सहर ओ शाम में ऐ साहिब-ए-होश
इक जहाँ और भी है जिस में न फ़र्दा है न दोश
اس صبح اور شام میں نہ کھو جانا، اے صاحبِ ہوش۔ ایک جہاں اور بھی ہے جس میں نہ فردا ہے اور نہ کوئی قصور۔
2
किस को मालूम है हंगामा-ए-फ़र्दा का मक़ाम
मस्जिद ओ मकतब ओ मय-ख़ाना हैं मुद्दत से ख़मोश
کس کو معلوم ہے کل کے ہنگامے کا مقام۔ مسجد، مکتب اور می خانہ ہیں مدت سے خاموش۔
3
मैं ने पाया है इसे अश्क-ए-सहर-गाही में
जिस दुर-ए-नाब से ख़ाली है सदफ़ की आग़ोश
میں نے اسے صبح کے آنسوؤں میں پایا ہے، جو اس صدف کی گود سے ہے جس میں پانی کا بہاؤ نہیں ہے۔
4
नई तहज़ीब तकल्लुफ़ के सिवा कुछ भी नहीं
चेहरा रौशन हो तो क्या हाजत-ए-गुलगूना फ़रोश
نئی تہذیب محض تکلف ہے؛ اگر چہرہ خود روشن ہے، تو گپ شپ کرنے والے کے دکھاوے کی کیا ضرورت ہے؟
5
साहिब-ए-साज़ को लाज़िम है कि ग़ाफ़िल न रहे
गाहे गाहे ग़लत-आहंग भी होता है सरोश
نغمہ کے ماہر کو لاپروا نہ ہونا چاہیے، کیونکہ کبھی کبھی غلط دھن بھی خوشی کا باعث بن سکتی ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
