غزل

खो न जा इस सहर ओ शाम में ऐ साहिब-ए-होश

खो न जा इस सहर ओ शाम में ऐ साहिब-ए-होश
علامہ اقبال· Ghazal· 5 shers

یہ غزل ایک گہرے جذباتی اور روحانی التجا کا اظہار کرتی ہے، جس میں شاعر کو مخاطب کیا گیا ہے کہ وہ صبح اور شام کے لمحات میں کھو نہ جائے۔ اس میں زندگی کی عدم یقینی اور ایک پراسرار 'فردہ' کے مقام پر غور کیا گیا ہے، جہاں کئی مقامات (مسجد، مکتب، مے خانہ) خاموش ہیں۔ شاعر نے آنسوؤں کی صبح میں ایک ایسی حالت پائی ہے جو 'ناب' سے دور ہے، اور حقیقی تہذیب دکھاوے یا جھوٹے زیورات کی فروخت سے پر ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
खो न जा इस सहर ओ शाम में ऐ साहिब-ए-होश इक जहाँ और भी है जिस में न फ़र्दा है न दोश
کھو نہ جا اس سحر و شام میں اے صاحب ہوش اک جہاں اور بھی ہے جس میں نہ فردا ہے نہ دوش
اس صبح اور شام میں نہ کھو جانا، اے صاحبِ ہوش۔ ایک جہاں اور بھی ہے جس میں نہ فردا ہے اور نہ کوئی قصور۔
2
किस को मालूम है हंगामा-ए-फ़र्दा का मक़ाम मस्जिद ओ मकतब ओ मय-ख़ाना हैं मुद्दत से ख़मोश
کس کو معلوم ہے ہنگامۂ فردا کا مقام مسجد و مکتب و مے خانہ ہیں مدت سے خموش
کس کو معلوم ہے کل کے ہنگامے کا مقام۔ مسجد، مکتب اور می خانہ ہیں مدت سے خاموش۔
3
मैं ने पाया है इसे अश्क-ए-सहर-गाही में जिस दुर-ए-नाब से ख़ाली है सदफ़ की आग़ोश
میں نے پایا ہے اسے اشک سحرگاہی میں جس در ناب سے خالی ہے صدف کی آغوش
میں نے اسے صبح کے آنسوؤں میں پایا ہے، جو اس صدف کی گود سے ہے جس میں پانی کا بہاؤ نہیں ہے۔
4
नई तहज़ीब तकल्लुफ़ के सिवा कुछ भी नहीं चेहरा रौशन हो तो क्या हाजत-ए-गुलगूना फ़रोश
نئی تہذیب تکلف کے سوا کچھ بھی نہیں چہرہ روشن ہو تو کیا حاجت گلگونہ فروش
نئی تہذیب محض تکلف ہے؛ اگر چہرہ خود روشن ہے، تو گپ شپ کرنے والے کے دکھاوے کی کیا ضرورت ہے؟
5
साहिब-ए-साज़ को लाज़िम है कि ग़ाफ़िल न रहे गाहे गाहे ग़लत-आहंग भी होता है सरोश
صاحب ساز کو لازم ہے کہ غافل نہ رہے گاہے گاہے غلط آہنگ بھی ہوتا ہے سروش
نغمہ کے ماہر کو لاپروا نہ ہونا چاہیے، کیونکہ کبھی کبھی غلط دھن بھی خوشی کا باعث بن سکتی ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.