غزل

जुगनू की रौशनी है काशाना-ए-चमन में

जुगनू की रौशनी है काशाना-ए-चमन में
علامہ اقبال· Ghazal· 6 shers

یہ غزل قدرت کے حسن اور محبت کی محفل میں چمکتی روشنی کے مختلف ذرائع کا بیان کرتی ہے۔ اس میں باغ میں جگنو یا پھولوں کی انجمن میں شمع جیسی روشنی کا ذکر ہے، اور شاعر آسمان سے اتری ستارے، یا چاندنی کی کرن، یا ایک ایسے مسافر کا ذکر کرتے ہیں جو غربت میں وطن کو منور کرتا ہے، جس سے زندگی کی خوبصورتی اور چمک دمک کا احساس ظاہر ہوتا ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
जुगनू की रौशनी है काशाना-ए-चमन में या शम्अ' जल रही है फूलों की अंजुमन में
جگنو کی روشنی ہے کاشانۂ چمن میں یا شمع جل رہی ہے پھولوں کی انجمن میں
یہ جگنو کی روشنی ہے صحن میں یا شمع جل رہی ہے پھولوں کی انجمن میں؟
2
आया है आसमाँ से उड़ कर कोई सितारा या जान पड़ गई है महताब की किरन में
آیا ہے آسماں سے اڑ کر کوئی ستارہ یا جان پڑ گئی ہے مہتاب کی کرن میں
آسمان سے اڑ کر کوئی ستارہ آیا ہے، یا جان پڑ گئی ہے مہتاب کی کرن میں۔
3
या शब की सल्तनत में दिन का सफ़ीर आया ग़ुर्बत में आ के चमका गुमनाम था वतन में
یا شب کی سلطنت میں دن کا سفیر آیا غربت میں آ کے چمکا گمنام تھا وطن میں
یا شب کی سلطنت میں دن کا سفیر آیا، غربت میں آ کے وہ गुमनाम تھا وطن میں چمکا۔
4
तक्मा कोई गिरा है महताब की क़बा का ज़र्रा है या नुमायाँ सूरज के पैरहन में
تکمہ کوئی گرا ہے مہتاب کی قبا کا ذرہ ہے یا نمایاں سورج کے پیرہن میں
کیا یہ چاند (مہتاب) کے لباس سے کوئی دھول کا ذرہ گرا ہے، یا یہ صرف سورج کے پہناوے پر نظر آنے والا کوئی ذرہ ہے؟
5
हुस्न-ए-क़दीम की इक पोशीदा ये झलक थी ले आई जिस को क़ुदरत ख़ल्वत से अंजुमन में
حسن قدیم کی اک پوشیدہ یہ جھلک تھی لے آئی جس کو قدرت خلوت سے انجمن میں
ہُسنِ قدیم کی اک پوشیدہ یہ جھلک تھی، لے آئی جسے قدرت خلوت سے انجمن میں۔
6
छोटे से चाँद में है ज़ुल्मत भी रौशनी भी निकला कभी गहन से आया कभी गहन में
چھوٹے سے چاند میں ہے ظلمت بھی روشنی بھی نکلا کبھی گہن سے آیا کبھی گہن میں
چھوٹے سے چاند میں ہے ظلمت بھی روشنی بھی، نکلا کبھی گہن سے آیا کبھی گہن میں۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.