غزل

इश्क़ से पैदा नवा-ए-ज़िंदगी में ज़ेर-ओ-बम

इश्क़ से पैदा नवा-ए-ज़िंदगी में ज़ेर-ओ-बम
علامہ اقبال· Ghazal· 5 shers

یہ غزل عشق کے رنگ میں رنگی ایک نئی زندگی کے تجربات کو بیان کرتی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح عشق ہر چیز میں گھل مل جاتا ہے، جیسے صبح کی ہوا کا پھول کی شاخ میں ہونا۔ یہ محبت کی طاقت اور انسان کی اپنی تقدیر پر انحصار کو بھی سمجھاتی ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
इश्क़ से पैदा नवा-ए-ज़िंदगी में ज़ेर-ओ-बम इश्क़ से मिट्टी की तस्वीरों में सोज़-ए-दम-ब-दम
عشق سے پیدا نوائے زندگی میں زیر و بم عشق سے مٹی کی تصویروں میں سوز دمبدم
عشق سے پیدا نوی زندگی میں زَر و بَم، عشق سے مٹی کی تصویروں میں سوزِ دم بہ بہم۔
2
आदमी के रेशे रेशे में समा जाता है इश्क़ शाख़-ए-गुल में जिस तरह बाद-ए-सहर-गाही का नम
آدمی کے ریشے ریشے میں سما جاتا ہے عشق شاخ گل میں جس طرح باد سحرگاہی کا نم
محبت آدمی کے ہر ریشے میں بس جاتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے صبح کی ہوا کی نمی پھول کی شاخ میں سما جاتی ہے۔
3
अपने राज़िक़ को न पहचाने तो मुहताज-ए-मुलूक और पहचाने तो हैं तेरे गदा दारा ओ जम
اپنے رازق کو نہ پہچانے تو محتاج ملوک اور پہچانے تو ہیں تیرے گدا دارا و جم
اگر تم اپنے مالک کو نہیں پہچانتے، تو تم بادشاہوں کے محتاج رہو گے؛ مگر اگر تم اسے پہچانتے ہو، تو وہ تمہارے محل کا محبوب سہارا ہے۔
4
दिल की आज़ादी शहंशाही शिकम सामान-ए-मौत फ़ैसला तेरा तिरे हाथों में है दिल या शिकम
دل کی آزادی شہنشاہی شکم سامان موت فیصلہ تیرا ترے ہاتھوں میں ہے دل یا شکم
دل کی آزادی، شہنشاہی، اور موت کے سامان کا بوجھ—فصلہ تمہارے ہاتھوں میں ہے، دل یا پیٹ۔
5
ऐ मुसलमाँ अपने दिल से पूछ मुल्ला से न पूछ हो गया अल्लाह के बंदों से क्यूँ ख़ाली हरम
اے مسلماں اپنے دل سے پوچھ ملا سے نہ پوچھ ہو گیا اللہ کے بندوں سے کیوں خالی حرم
اے مسلمان، اپنے دل سے پوچھ، مڈّھا سے نہ پوچھ؛ ہو گیا اللہ کے بندوں سے کیوں خالی حرم۔ (مطلب: اے مسلمان، اپنے دل میں झाँک کر پوچھ، اور مڈّھاوں سے نہیں؛ کیوں اللہ کے بندوں سے خالی ہو گیا یہ مقدس مقام۔)
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.