दिल की आज़ादी शहंशाही शिकम सामान-ए-मौत
फ़ैसला तेरा तिरे हाथों में है दिल या शिकम
“The freedom of the heart, the opulence of the throne, the burdens of death, The decision is in your hands, heart or the stomach.”
— علامہ اقبال
معنی
دل کی آزادی، شہنشاہی، اور موت کے سامان کا بوجھ—فصلہ تمہارے ہاتھوں میں ہے، دل یا پیٹ۔
تشریح
یہ شعر ایک گہرے فلسفیانہ سوال کو سامنے لاتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ دل کی آزادی ہی بادشاہی ہے، اور پیٹ موت کا سامان۔ یہ ہمیں یہ فیصلہ کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہم اپنے جذبات (دل) کو بچائیں، یا اپنی جسمانی بقا (پیٹ) کو۔
