غزل
इबलीस का फ़रमान अपने सियासी फ़रज़न्दों के नाम
इबलीस का फ़रमान अपने सियासी फ़रज़न्दों के नाम
یہ غزل समकालीन ہندوستانی سیاست اور معاشرے پر ایک تیز طنزیہ تبصرہ ہے۔ شاعر نظام کی خامیوں اور مذہبی منافقت پر تنقید کرتا ہے، خاص طور پر طاقت میں مست لوگوں اور منافق سیاستدانوں کو نشانہ بناتا ہے۔ یہ سیاسی دکھاوے اور مذہبی انتہا پسندی کے امتزاج سے پیدا ہونے والے انتشار کو بے نقاب کرتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
ला कर बरहमनों को सियासत के पेच में
ज़ुन्नारियों को दैर-ए-कुहन से निकाल दो
برہمنوں کو سیاست کے پیچ میں نہ لائیں؛ زنہاروں کو دائرہِ کُہن سے نکال دیں۔
2
वो फ़ाक़ा-कश कि मौत से डरता नहीं ज़रा
रूह-ए-मोहम्मद उस के बदन से निकाल दो
وہ فاقا کش کی موت سے ڈرتا نہیں ذرا، روحِ محمد اس کے بدن سے نکال دو۔
3
फ़िक्र-ए-'अरब को दे के फ़रंगी तख़य्युलात
इस्लाम को हिजाज़-ओ-यमन से निकाल दो
عربوں کی فکر کو غیر ملکی تصورات کو دے کر، اسلام کو حجاز و یمن سے نکال دو۔
4
अफ़्ग़ानियों की ग़ैरत-ए-दीं का है ये ‘इलाज
मुल्ला को उन के कोह-ओ-दमन से निकाल दो
یہ افغانوں کی غیرتِ دین کا ہے اے ’علاج‘ / مڈھا کو اُن کے کوہ و دمن سے نکال دو
5
अहल-ए-हरम से उन की रिवायात छीन लो
आहू को मर्ग़-ज़ार-ए-ख़ुतन से निकाल दो
اہلِ حرم سے ان کی روایات چھین لو، اور آہو کو مرغ زارِ ختن سے نکال دو۔
6
'इक़बाल' के नफ़स से है लाले की आग तेज़
ऐसे ग़ज़ल-सरा को चमन से निकाल दो
اقبال کے نَفَس سے ہے لاله کی آگ تیز، ایسے غزل سرا کو چمن سے نکال دو۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
