غزل

इबलीस का फ़रमान अपने सियासी फ़रज़न्दों के नाम

इबलीस का फ़रमान अपने सियासी फ़रज़न्दों के नाम
علامہ اقبال· Ghazal· 6 shers

یہ غزل समकालीन ہندوستانی سیاست اور معاشرے پر ایک تیز طنزیہ تبصرہ ہے۔ شاعر نظام کی خامیوں اور مذہبی منافقت پر تنقید کرتا ہے، خاص طور پر طاقت میں مست لوگوں اور منافق سیاستدانوں کو نشانہ بناتا ہے۔ یہ سیاسی دکھاوے اور مذہبی انتہا پسندی کے امتزاج سے پیدا ہونے والے انتشار کو بے نقاب کرتی ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
ला कर बरहमनों को सियासत के पेच में ज़ुन्नारियों को दैर-ए-कुहन से निकाल दो
لا کر برہمنوں کو سیاست کے پیچ میں زناريوں کو دیر کہن سے نکال دو
برہمنوں کو سیاست کے پیچ میں نہ لائیں؛ زنہاروں کو دائرہِ کُہن سے نکال دیں۔
2
वो फ़ाक़ा-कश कि मौत से डरता नहीं ज़रा रूह-ए-मोहम्मद उस के बदन से निकाल दो
وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا روح محمد اس کے بدن سے نکال دو
وہ فاقا کش کی موت سے ڈرتا نہیں ذرا، روحِ محمد اس کے بدن سے نکال دو۔
3
फ़िक्र-ए-'अरब को दे के फ़रंगी तख़य्युलात इस्लाम को हिजाज़-ओ-यमन से निकाल दो
فکر عرب کو دے کے فرنگی تخیلات اسلام کو حجاز و یمن سے نکال دو
عربوں کی فکر کو غیر ملکی تصورات کو دے کر، اسلام کو حجاز و یمن سے نکال دو۔
4
अफ़्ग़ानियों की ग़ैरत-ए-दीं का है ये ‘इलाज मुल्ला को उन के कोह-ओ-दमन से निकाल दो
افغانیوں کی غیرت دیں کا ہے یہ علاج ملا کو ان کے کوہ و دمن سے نکال دو
یہ افغانوں کی غیرتِ دین کا ہے اے ’علاج‘ / مڈھا کو اُن کے کوہ و دمن سے نکال دو
5
अहल-ए-हरम से उन की रिवायात छीन लो आहू को मर्ग़-ज़ार-ए-ख़ुतन से निकाल दो
اہل حرم سے ان کی روایات چھین لو آہو کو مرغزار ختن سے نکال دو
اہلِ حرم سے ان کی روایات چھین لو، اور آہو کو مرغ زارِ ختن سے نکال دو۔
6
'इक़बाल' के नफ़स से है लाले की आग तेज़ ऐसे ग़ज़ल-सरा को चमन से निकाल दो
اقبالؔ کے نفس سے ہے لالے کی آگ تیز ایسے غزل سرا کو چمن سے نکال دو
اقبال کے نَفَس سے ہے لاله کی آگ تیز، ایسے غزل سرا کو چمن سے نکال دو۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.