غزل

है याद मुझे नुक्ता-ए-सलमान-ए-ख़ुश-आहंग

है याद मुझे नुक्ता-ए-सलमान-ए-ख़ुश-आहंग
علامہ اقبال· Ghazal· 3 shers

یہ غزل بتاتی ہے کہ یاد کا ہونا کسی خاص شخص یا حالات پر منحصر نہیں ہوتا۔ یہ زندگی میں حقیقی علم اور خوشی کو اپنانے پر زور دیتی ہے، نہ کہ محض دکھاوا یا تقلید پر۔ شاعر کہتا ہے کہ ایک سچی زندگی گزارنے کے لیے جرات اور عقل کی ضرورت ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
है याद मुझे नुक्ता-ए-सलमान-ए-ख़ुश-आहंग दुनिया नहीं मर्दान-ए-जफ़ा-कश के लिए तंग
ہے یاد مجھے نکتۂ سلمان خوش آہنگ دنیا نہیں مردان جفاکش کے لیے تنگ
مجھے سلمان کے پیارے نشان کی یاد ہے، یہ دنیا ان لوگوں کے لیے تنگ نہیں جو دل دکھانے والے ہیں۔
2
चीते का जिगर चाहिए शाहीं का तजस्सुस जी सकते हैं बे-रौशनी-ए-दानिश-ओ-फ़रहंग
چیتے کا جگر چاہیے شاہیں کا تجسس جی سکتے ہیں بے روشنی دانش و فرہنگ
چیتے کا جگر اور شاہی کا تجسس چاہیے، بس اتنا ہے کہ آپ علم اور فخر کی روشنی کے بغیر بھی جی سکتے ہیں۔
3
कर बुलबुल-ओ-ताऊस की तक़लीद से तौबा बुलबुल फ़क़त आवाज़ है ताऊस फ़क़त रंग
کر بلبل و طاؤس کی تقلید سے توبہ بلبل فقط آواز ہے طاؤس فقط رنگ
بُلبُل اور طاوُس کی تقلید سے توبہ کرو؛ بلبل صرف آواز ہے اور طاوُس صرف رنگ۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.