غزل
गर्म-ए-फ़ुग़ाँ है जरस उठ कि गया क़ाफ़िला
गर्म-ए-फ़ुग़ाँ है जरस उठ कि गया क़ाफ़िला
یہ غزل زندگی کی عارضی اور مسلسل بدلتی ہوئی فطرت کا بیان کرتی ہے، جو بتاتی ہے کہ ہر چیز گزر جاتی ہے۔ شاعر زندگی کو ایک ایسے سفر کے طور پر بیان کرتا ہے جو ہر لمحے کے نشے اور مایوسی سے بھرا ہے، اور دل کو وقت کے اس اتار چڑھاؤ میں ثابت قدم رہنے کا پیغام دیتا ہے۔
نغمہ سنیں
1
गर्म-ए-फ़ुग़ाँ है जरस उठ कि गया क़ाफ़िला
वाए वो रह-रौ कि है मुंतज़़िर-ए-राहिला
گرم فغاں ہے جرس اٹھ کہ گیا قافلہ
وائے وہ رہ رو کہ ہے منتظر راحلہ
جذبۂ جدائی نے قافلہ اٹھایا ہے؛ اے، راہ پر ٹھہرو، کیونکہ وہ منتظر مسافر ہے۔
2
तेरी तबीअत है और तेरा ज़माना है और
तेरे मुआफ़िक़ नहीं ख़ानक़ही सिलसिला
تیری طبیعت ہے اور تیرا زمانہ ہے اور
تیرے موافق نہیں خانقہی سلسلہ
تیرے طبعت ہے اور تیرا زمانہ ہے اور تیرے موافق خانقاہی سلسلہ
3
दिल हो ग़ुलाम-ए-ख़िरद या कि इमाम-ए-ख़िरद
सालिक-ए-रह होशियार सख़्त है ये मरहला
دل ہو غلام خرد یا کہ امام خرد
سالک رہ ہوشیار سخت ہے یہ مرحلہ
دل ہو غلامِ خِرد یا کہ امامِ خِرد، سالکِ رَہ ہوشیار سख़्त ہے یہ مرحلہ۔ (یعنی، چاہے دل خواہش کا غلام ہو یا عقل کا رہنما، یہ سفر کا مرحلہ گزارنا مشکل ہے۔)
4
उस की ख़ुदी है अभी शाम-ओ-सहर में असीर
गर्दिश-ए-दौराँ का है जिस की ज़बाँ पर गिला
اس کی خودی ہے ابھی شام و سحر میں اسیر
گردش دوراں کا ہے جس کی زباں پر گلہ
اس کی خودی ابھی شام و سحر میں قید ہے، جس کی زبان پر گردشِ دوراں کا ہے گلہ۔
5
तेरे नफ़स से हुई आतिश-ए-गुल तेज़-तर
मुर्ग़-ए-चमन है यही तेरी नवा का सिला
تیرے نفس سے ہوئی آتش گل تیز تر
مرغ چمن ہے یہی تیری نوا کا صلہ
تیرے نَفَس سے ہوئی آتِشِ گل تیز تر،
مُرغِ چمن ہے یہی تیری نواز کا صِلہ۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
