उस की ख़ुदी है अभी शाम-ओ-सहर में असीर
गर्दिश-ए-दौराँ का है जिस की ज़बाँ पर गिला
“His own being is captive in the evening and morning light, Whose tongue complains about the spinning of the world's might.”
— علامہ اقبال
معنی
اس کی خودی ابھی شام و سحر میں قید ہے، جس کی زبان پر گردشِ دوراں کا ہے گلہ۔
تشریح
یہ شعر وجودی جدوجہد کا بیان ہے۔ شاعر فرماتے ہیں کہ انسان کی اپنی ذات (خودی) ابھی بھی شب و سحر کے درمیان قیدی ہے۔ یہ شکایت دنیا کے معمولات سے نہیں، بلکہ وقت کے مسلسل دائرے سے ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
