Sukhan AI
غزل

दिल-ए-मुर्दा दिल नहीं है इसे ज़िंदा कर दुबारा

दिल-ए-मुर्दा दिल नहीं है इसे ज़िंदा कर दुबारा
علامہ اقبال· Ghazal· 5 shers

یہ غزل ایک دل کی پکار ہے جو مرے ہوئے دل میں زندگی اور شعور کی واپسی کی التجا کرتی ہے۔ یہ گہرے روحانی اور جذباتی بے چینی کا اظہار کرتی ہے، جس میں ایک ایسے محبوب یا سچ کی تلاش ہے جو ابھی پوری طرح سے معلوم نہیں ہے۔ یہ کلام زندگی کی عدم استحکام اور اندرونی سکون کی جستجو کو پیش کرتا ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
2
तिरा बहर पुर-सुकूँ है ये सुकूँ है या फ़ुसूँ है न नहंग है न तूफ़ाँ न ख़राबी-ए-किनारा
ترا ساحل پرسکون سمندر جیسا ہے؛ کیا یہ سکون ہے یا کوئی وہم؟ یہ نہ شیر ہے اور نہ طوفان کی تباہی۔
4
तिरे नीस्ताँ में डाला मिरे नग़मा-ए-सहर ने मिरी ख़ाक पै-सिपर में जो निहाँ था इक शरारा
میرے سحر کا نغمہ تیرے اندھیرے میں پڑا، اور میری خاک پر دفن جو چمک تھی، وہ ظاہر ہو گئی۔
5
नज़र आएगा उसी को ये जहान-ए-दोष-ओ-फ़र्दा जिसे आ गई मयस्सर मिरी शोख़ी-ए-नज़ारा
یہ دنیاِ عیب و فردا، صرف اُسی کو نظر آئے گا جسے میرے نज़ारे کی سحر آ گئی ہے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.