غزل
दिल-ए-मुर्दा दिल नहीं है इसे ज़िंदा कर दुबारा
दिल-ए-मुर्दा दिल नहीं है इसे ज़िंदा कर दुबारा
یہ غزل ایک دل کی پکار ہے جو مرے ہوئے دل میں زندگی اور شعور کی واپسی کی التجا کرتی ہے۔ یہ گہرے روحانی اور جذباتی بے چینی کا اظہار کرتی ہے، جس میں ایک ایسے محبوب یا سچ کی تلاش ہے جو ابھی پوری طرح سے معلوم نہیں ہے۔ یہ کلام زندگی کی عدم استحکام اور اندرونی سکون کی جستجو کو پیش کرتا ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
दिल-ए-मुर्दा दिल नहीं है इसे ज़िंदा कर दुबारा
कि यही है उम्मतों के मर्ज़-ए-कुहन का चारा
مرے ایک مردہ دل کو زندہ کر دوں گا، کیونکہ یہی امتوں کی پرانی بیماری کا علاج ہے۔
2
तिरा बहर पुर-सुकूँ है ये सुकूँ है या फ़ुसूँ है
न नहंग है न तूफ़ाँ न ख़राबी-ए-किनारा
ترا ساحل پرسکون سمندر جیسا ہے؛ کیا یہ سکون ہے یا کوئی وہم؟ یہ نہ شیر ہے اور نہ طوفان کی تباہی۔
3
तू ज़मीर-ए-आसमाँ से अभी आश्ना नहीं है
नहीं बे-क़रार करता तुझे ग़म्ज़ा-ए-सितारा
تو زمیںِ آسمان سے ابھی آشنا نہیں ہے، نہیں بے قرار کرتا تجھے غمچہِ ستارہ۔
4
तिरे नीस्ताँ में डाला मिरे नग़मा-ए-सहर ने
मिरी ख़ाक पै-सिपर में जो निहाँ था इक शरारा
میرے سحر کا نغمہ تیرے اندھیرے میں پڑا، اور میری خاک پر دفن جو چمک تھی، وہ ظاہر ہو گئی۔
5
नज़र आएगा उसी को ये जहान-ए-दोष-ओ-फ़र्दा
जिसे आ गई मयस्सर मिरी शोख़ी-ए-नज़ारा
یہ دنیاِ عیب و فردا، صرف اُسی کو نظر آئے گا جسے میرے نज़ारे کی سحر آ گئی ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
