غزل
अमीन-ए-राज़ है मर्दान-ए-हूर की दरवेशी
अमीन-ए-राज़ है मर्दान-ए-हूर की दरवेशी
یہ غزل ایک پراسرار اور گہرا محبت کا تجربہ بیان کرتی ہے، جہاں عشق کو ایک گہرے راز اور روحانی حالت کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ اس میں گرم نگاہوں اور سرد آہوں کے ذریعے عشق کے مختلف پہلوؤں کو دکھایا گیا ہے، اور آخر میں یہ بتایا گیا ہے کہ عشق کی بیماری صرف خواہش کی بے نشی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
अमीन-ए-राज़ है मर्दान-ए-हूर की दरवेशी
कि जिबरईल से है उस को निस्बत-ए-ख़्वेशी
وہ حور کے درویش کی راز داری ہے، / کہ جبریل سے اُسے نسبتِ خویشی ہے۔
2
किसे ख़बर कि सफ़ीने डुबो चुकी कितने
फ़क़ीह ओ सूफ़ी ओ शाइर की ना-ख़ुश-अंदेशी
کسے خبر کہ سفینے ڈبو چکی کتنے فقیہ و صوفی و شاعر کی ناخوش اندیشی۔
3
निगाह-ए-गर्म कि शेरों के जिस से होश उड़ जाएँ
न आह-ए-सर्द कि है गोसफ़ंदी ओ मेशी
یہ گرم نگاہ کی بات ہے جس سے ہوش اڑ جائیں، نہ کہ سرد آہ کی جو گُفتارِ قبر ہے۔
4
तबीब-ए-इश्क़ ने देखा मुझे तो फ़रमाया
तिरा मरज़ है फ़क़त आरज़ू की बे-नीशी
عشق کے ڈاکٹر نے مجھے دیکھ کر فرمایا کہ تمہاری بیماری محض آرزو کی بے نشی ہے۔
5
वो शय कुछ और है कहते हैं जान-ए-पाक जिसे
ये रंग ओ नम ये लहू आब ओ नाँ की है बेशी
وہ شے کچھ اور ہے، کہتے ہیں جانِ پاک جسے؛ یہ رنگ او نم یہ لہو، آب و ناں کی ہے بیشی۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
