Sukhan AI
غزل

अमीन-ए-राज़ है मर्दान-ए-हूर की दरवेशी

अमीन-ए-राज़ है मर्दान-ए-हूर की दरवेशी
علامہ اقبال· Ghazal· 5 shers

یہ غزل ایک پراسرار اور گہرا محبت کا تجربہ بیان کرتی ہے، جہاں عشق کو ایک گہرے راز اور روحانی حالت کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ اس میں گرم نگاہوں اور سرد آہوں کے ذریعے عشق کے مختلف پہلوؤں کو دکھایا گیا ہے، اور آخر میں یہ بتایا گیا ہے کہ عشق کی بیماری صرف خواہش کی بے نشی ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
4
तबीब-ए-इश्क़ ने देखा मुझे तो फ़रमाया तिरा मरज़ है फ़क़त आरज़ू की बे-नीशी
عشق کے ڈاکٹر نے مجھے دیکھ کر فرمایا کہ تمہاری بیماری محض آرزو کی بے نشی ہے۔
5
वो शय कुछ और है कहते हैं जान-ए-पाक जिसे ये रंग ओ नम ये लहू आब ओ नाँ की है बेशी
وہ شے کچھ اور ہے، کہتے ہیں جانِ پاک جسے؛ یہ رنگ او نم یہ لہو، آب و ناں کی ہے بیشی۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

अमीन-ए-राज़ है मर्दान-ए-हूर की दरवेशी | Sukhan AI