غزل

अमीन-ए-राज़ है मर्दान-ए-हूर की दरवेशी

अमीन-ए-राज़ है मर्दान-ए-हूर की दरवेशी
علامہ اقبال· Ghazal· 5 shers

یہ غزل ایک پراسرار اور گہرا محبت کا تجربہ بیان کرتی ہے، جہاں عشق کو ایک گہرے راز اور روحانی حالت کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ اس میں گرم نگاہوں اور سرد آہوں کے ذریعے عشق کے مختلف پہلوؤں کو دکھایا گیا ہے، اور آخر میں یہ بتایا گیا ہے کہ عشق کی بیماری صرف خواہش کی بے نشی ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
अमीन-ए-राज़ है मर्दान-ए-हूर की दरवेशी कि जिबरईल से है उस को निस्बत-ए-ख़्वेशी
امین راز ہے مردان حر کی درویشی کہ جبرئیل سے ہے اس کو نسبت خویشی
وہ حور کے درویش کی راز داری ہے، / کہ جبریل سے اُسے نسبتِ خویشی ہے۔
2
किसे ख़बर कि सफ़ीने डुबो चुकी कितने फ़क़ीह ओ सूफ़ी ओ शाइर की ना-ख़ुश-अंदेशी
کسے خبر کہ سفینے ڈبو چکی کتنے فقیہ و صوفی و شاعر کی ناخوش اندیشی
کسے خبر کہ سفینے ڈبو چکی کتنے فقیہ و صوفی و شاعر کی ناخوش اندیشی۔
3
निगाह-ए-गर्म कि शेरों के जिस से होश उड़ जाएँ न आह-ए-सर्द कि है गोसफ़ंदी ओ मेशी
نگاہ گرم کہ شیروں کے جس سے ہوش اڑ جائیں نہ آہ سرد کہ ہے گوسفندی و میشی
یہ گرم نگاہ کی بات ہے جس سے ہوش اڑ جائیں، نہ کہ سرد آہ کی جو گُفتارِ قبر ہے۔
4
तबीब-ए-इश्क़ ने देखा मुझे तो फ़रमाया तिरा मरज़ है फ़क़त आरज़ू की बे-नीशी
طبیب عشق نے دیکھا مجھے تو فرمایا ترا مرض ہے فقط آرزو کی بے نیشی
عشق کے ڈاکٹر نے مجھے دیکھ کر فرمایا کہ تمہاری بیماری محض آرزو کی بے نشی ہے۔
5
वो शय कुछ और है कहते हैं जान-ए-पाक जिसे ये रंग ओ नम ये लहू आब ओ नाँ की है बेशी
وہ شے کچھ اور ہے کہتے ہیں جان پاک جسے یہ رنگ و نم یہ لہو آب و ناں کی ہے بیشی
وہ شے کچھ اور ہے، کہتے ہیں جانِ پاک جسے؛ یہ رنگ او نم یہ لہو، آب و ناں کی ہے بیشی۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.