آتی ہو کسطرح سے مری قبض روح کو — خواجہ حیدر علی آتش
“How will you come to seize my parting soul, I wonder— let me but see what pretext Death is searching for.”
معنی
اے موت، تو میری روح کو قبض کرنے کس طرح سے آتی ہے، ذرا دیکھوں تو سہی کہ تو کیا بہانہ ڈھونڈھ رہی ہے۔
تشریح
اس شعر میں شاعر موت کو ایک جیتی جاگتی ہستی کے روپ میں دیکھتا ہے جو اُس کی روح قبض کرنے کے لیے کوئی بہانہ ڈھونڈ رہی ہے۔ کتنی عجیب اور دلچسپ بات ہے کہ یہاں موت خود جھجک رہی ہے، گویا عاشق کی زندگی اتنی اداس ہو چکی ہے کہ اب موت کو بھی آنے کے لیے کسی عذر کی ضرورت ہے۔ اس میں زندگی سے تھکن اور موت کے انتظار کی ایک نرالی بے باکی چھپی ہوئی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
