ہوتا ہے زرد سُن کے جو نامرد مدعی — خواجہ حیدر علی آتش
“The craven foe turns pale on merely hearing it told— our tale is a saga of Rustam, so what mere story is ours?”
معنی
جسے سُن کر بزدل دشمن کا رنگ زرد پڑ جاتا ہے، ہماری کہانی تو رستم کی داستان ہے، پھر یہ محض ایک قصہ کیسے ہوا۔
تشریح
اس شعر میں شاعر بڑے فخر سے اپنی بہادری اور شان کا اظہار کر رہا ہے۔ بزدل دشمن تو محض ہماری داستان سُن کر ہی خوف سے زرد پڑ جاتا ہے — پھر سوچو کہ اصل کارنامہ کیسا ہوگا! رستم، فارسی داستانوں کا عظیم جنگجو، یہاں شجاعت کی علامت ہے، اور شاعر کہتا ہے کہ ہمارا قصہ تو رستم جیسی عظمت کا حامل ہے، کوئی معمولی فسانہ نہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
