طبل و علم نہ پاس ہے اپنے نہ ملک مال — خواجہ حیدر علی آتش
“No drum nor banner do we own, no realm, no wealth, no gold— So what can the age do to us, though it turn hostile and bold?”
معنی
ہمارے پاس نہ طبل و علم (اقتدار کی نشانیاں) ہیں، نہ کوئی ملک اور نہ مال و دولت۔ پھر زمانہ ہمارے خلاف ہو کر ہمارا کیا بگاڑ سکتا ہے؟
تشریح
اس شعر میں شاعر ایک گہری بے نیازی اور آزادی کا اعلان کرتا ہے۔ 'طبل و علم' یعنی جنگ کے نقارے اور پرچم، ملک اور مال و دولت — یہ سب طاقت اور ملکیت کی علامتیں ہیں، وہی چیزیں جو انسان کو ڈر کے مارے زمانے کے سامنے جھکا دیتی ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ جب میرے پاس کھونے کو کچھ ہے ہی نہیں، تو یہ دنیا میری دشمن ہو کر بھی میرا کیا بگاڑ لے گی۔ یہ ایک فقیرانہ شان ہے — جس کے پاس کچھ نہیں، وہی سب سے زیادہ بے خوف ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
