صیاد اسیر دام رگ گل ہو عندلیب — خواجہ حیدر علی آتش

صیاد اسیر دام رگ گل ہو عندلیب دکھلا رہا ہے چھپ کے اسے دام و دانہ کیا

“May the fowler be snared in the net of the rose-petal's veins, O nightingale— For, hidden away, what snare and grain he keeps displaying to it!”

— خواجہ حیدر علی آتش

معنی

اے عندلیب، صیاد خود گلاب کی پتی کی رگوں کے جال میں اسیر ہو جائے—کیونکہ وہ چھپ کر اسے جال اور دانہ دکھا رہا ہے۔

تشریح

اس شعر میں شاعر ایک انوکھی بددعا دیتا ہے — کاش وہ صیّاد خود گُل کی پتّی کی رگوں کے جال میں پھنس جائے، اے عندلیب! کیونکہ وہ چھپ کر تجھے دانہ اور دام دکھا دکھا کر پھسلا رہا ہے۔ یہاں صیّاد اُس فریبی دنیا یا مکّار محبوب کی علامت ہے جو حُسن کے لالچ سے معصوم عاشق کو پھانستا ہے۔ گہرائی یہ ہے کہ جو چیز سب سے خوبصورت لگتی ہے — نازک گلاب کی پتّی — وہی سب سے دلکش جال بن سکتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.