زینہ صبا کا ڈھونڈھتی ہے اپنی مشت خاک — خواجہ حیدر علی آتش
“My handful of dust goes seeking the stairway of the morning breeze— Is the lofty rooftop of the beloved but a humble threshold now?”
معنی
میری مٹھی بھر خاک صبح کی ہوا کی سیڑھی ڈھونڈھتی ہے؛ کیا یار کی بلند چھت محض ایک آستانہ ہے؟
تشریح
ذرا سوچیے — شاعر خود کو مٹھی بھر خاک کہتا ہے، جو صبح کی ہوا کی سیڑھی تلاش کر رہی ہے تاکہ اوپر اُٹھ کر محبوب کی بلند چھت تک پہنچ سکے۔ یہاں 'مشتِ خاک' انسان کی ناچیزی اور فنا پذیری کی علامت ہے، جبکہ محبوب کی اونچی چھت وہ منزل ہے جس تک رسائی تقریباً ناممکن دکھائی دیتی ہے۔ پھر بھی ایک حیرت بھری اُمید ہے — کیا وہ بلند بام محض ایک آستانہ یعنی دہلیز ہے، جسے پار کرنا اتنا مشکل نہیں؟ اس میں عاشق کی آرزو اور اپنی کمزوری دونوں کی جھلک موجود ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
