اُڑتا ہے شوق راحت منزل سے بہب عمر — خواجہ حیدر علی آتش
“The steed of life gallops on, spurred by the longing for the comfort of the destination— Tell me, what is a goad, and what a whip, to one who races so?”
معنی
زندگی کا گھوڑا منزل کے آرام کی خواہش میں تیزی سے اڑتا دوڑتا ہے؛ ایسے دوڑنے والے کے لیے مہمیز اور تازیانہ کیا معنی رکھتے ہیں؟
تشریح
اِس شعر میں زندگی کو ایک ایسے گھوڑے سے تشبیہ دی گئی ہے جو منزل کے سکون کی آرزو میں بے تحاشا دوڑا چلا جا رہا ہے۔ جب دل میں کسی مقام تک پہنچنے کی اتنی شدید تڑپ ہو تو پھر مہمیز (ایڑ) یا تازیانہ (کوڑے) کی کیا حاجت — اندر کی لگن ہی سب سے بڑی تحریک بن جاتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جس کے دل میں جنون ہو، اُسے باہر کے دباؤ کی ضرورت نہیں رہتی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
