زیر زمین سے آتا ہے جو گل سُو زر بکف — خواجہ حیدر علی آتش
“Each rose that rises from beneath the earth comes with gold in its palm— what treasure did Qarun scatter along the way?”
معنی
زمین کے نیچے سے جو پھول نکلتا ہے وہ اپنی ہتھیلی میں سونا لیے آتا ہے—تو کیا قارون نے اپنا خزانہ راستے میں لٹا دیا تھا؟
تشریح
ذرا سوچیے، زمین کے نیچے سے جو پھول کھل کر اوپر آتا ہے وہ اپنی ہتھیلی میں سونا لیے ہوئے آتا ہے—گویا ہر گل اپنے اندر ایک خزانہ سمیٹے ہوئے ہے۔ شاعر دل لگی سے پوچھتا ہے کہ کہیں قارون، جو اپنے بے شمار خزانے سمیت زمین میں دھنس گیا تھا، اپنا سونا راستے بھر لٹاتا نہ چلا گیا ہو، جو اب پھولوں کی صورت میں اُگ آیا ہے۔ اس میں ایک گہری بات پوشیدہ ہے—جمع کی ہوئی دولت آخر مٹی میں مل جاتی ہے، جبکہ قدرت بغیر کسی لالچ کے جو حسن لٹاتی ہے وہی اصل خزانہ ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
