کیا کیا اُلجھتا ہے تری زلفون کے تار سے — خواجہ حیدر علی آتش
“How much entangles itself in the strands of your tresses— what fortune would the comb seek, its breast torn a hundredfold?”
معنی
تیری زلفوں کے دھاگوں میں نہ جانے کیا کیا الجھ جاتا ہے۔ سو جگہ سے چاک سینے والا کنگھا بھلا کس خوش بختی کی طلب رکھے؟
تشریح
اس شعر میں شاعر محبوب کی اُلجھی ہوئی زلفوں کی تصویر کھینچتا ہے، جن میں نہ جانے کتنی ہی چیزیں — دل، جان اور عاشقوں کی آرزوئیں — اُلجھ جاتی ہیں۔ کنگھی کا سینہ سو جگہ سے چاک ہے، یعنی اُس کے دندانے اُن لٹوں کو سلجھاتے سلجھاتے ٹوٹتے رہتے ہیں۔ گہرا مفہوم یہ ہے کہ محبوب کے قریب آنے کی قیمت بہت بھاری ہے؛ جو بھی اُن زلفوں کو چھونا چاہے اُسے سینہ چِروانا پڑتا ہے، پھر کنگھی جیسی بے جان شے بھلا اُس خوش بختی کی طلب کیسے کرے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
