سن تو سہی جہان مین ہے نیرا فسانہ کیا — خواجہ حیدر علی آتش
“Just listen, after all—what is your tale across this world? What does God's creation say of you behind your back, unheard?”
معنی
ذرا سن تو سہی، اس جہان میں تیری کہانی کیا ہے۔ خدا کی مخلوق تیرے بارے میں تیری غیر موجودگی میں کیا کہتی ہے۔
تشریح
اس شعر میں شاعر کسی سے کہتا ہے کہ ذرا کان لگا کر سن تو سہی کہ دنیا میں تیری کہانی کس طرح مشہور ہے۔ 'خلقِ خدا' یعنی خدا کی ساری مخلوق تیرے پیچھے، تیری غیر موجودگی میں تیرے بارے میں کیا کہتی ہے۔ اس میں ایک پیارا طنز ہے کہ انسان کی اصل پہچان وہ ہے جو لوگ اس کے سامنے نہیں بلکہ اس کی غیر حاضری میں کہتے ہیں، اور شاعر محبوب کو یہی آئینہ دکھا رہا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
