ترچھی نگہ سے طائر دل ہو چکا شکار — خواجہ حیدر علی آتش

ترچھی نگہ سے طائر دل ہو چکا شکار جب تیر کج پڑے گا اُٹھیگا نشانہ کیا

“The bird of the heart was hunted by a single sidelong glance— when the arrow flies so crooked, what prize will the aim advance?”

— خواجہ حیدر علی آتش

معنی

ایک ترچھی نگاہ ہی سے دل کا پرندہ شکار ہو گیا؛ جب تیر ٹیڑھا ہی پڑے گا تو پھر نشانہ کیا اٹھے گا۔

تشریح

ذرا سوچیے — دل ایک پرندہ ہے، اور محبوب کی ترچھی نگاہ وہ تیر جس نے اُسے لمحے بھر میں شکار کر لیا۔ شاعر ایک خوبصورت نکتہ کہتا ہے: جب ٹیڑھا تیر، یعنی ترچھی نظر ہی اتنی کارگر ہے، تو سوچیے سیدھا نشانہ کیا قیامت ڈھاتا! اصل جادو اِسی ترچھے پن میں ہے، جہاں محبوب بغیر کسی کوشش کے عاشق کو گھائل کر جاتا ہے، اور یہی بے پروائی اُس کے حسن کو اور دلکش بنا دیتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.