بے یار ساز دار نہ ہوئے گا گوش کو — خواجہ حیدر علی آتش
بے یار ساز دار نہ ہوئے گا گوش کو
مطرب ہمین سُناتا ہے اپنا ترانہ کیا
“Without the beloved, no harmony will reach the listening ear; What song does the minstrel sing to us, that we should care to hear?”
— خواجہ حیدر علی آتش
معنی
بے یار کوئی ساز کان کے لیے خوشگوار نہ ہوگا؛ پھر مطرب ہمیں اپنا ترانہ سنا کر کیا کرے گا۔
تشریح
اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ جب تک محبوب پاس نہ ہو، کوئی ساز، کوئی نغمہ کانوں کو بھلا نہیں لگتا۔ مطرب چاہے کتنا ہی سُریلا گائے، دل تو اُسی کے لیے تڑپتا ہے جو موجود ہی نہیں۔ یہاں موسیقی اور محبت کو ایک ساتھ پرو دیا گیا ہے — اصل نغمگی تو محبوب کی موجودگی سے ہے، ورنہ باقی سب بے جان شور ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
