صفا ہوانہ ریاضت سے نفس امّارہ — خواجہ حیدر علی آتش

صفا ہوانہ ریاضت سے نفس امّارہ کوئی نجاست سگ کا ازالہ کیا کرتا

“No austerity could cleanse the carnal, commanding self— how could anyone wash away a dog's defilement?”

— خواجہ حیدر علی آتش

معنی

ریاضت اور مجاہدے سے بھی نفسِ امّارہ پاک نہ ہوا؛ بھلا کوئی کتے کی نجاست کو کیسے دور کر سکتا تھا۔

تشریح

شاعر یہاں نفسِ امّارہ کا ذکر کرتا ہے، یعنی وہ اندرونی خواہشوں بھرا نفس جو ہمیں برائی کی طرف اکساتا رہتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ چاہے کتنی ہی ریاضت اور مجاہدہ کر لو، یہ نفس پاک نہیں ہوتا — جیسے کتے کی نجاست کو دھو کر بھی مکمل پاک نہیں کیا جا سکتا۔ اس میں ایک گہری خود احتسابی اور مایوسی ہے کہ انسان کا انا اور ہوس اتنی ضدی ہے کہ عبادت بھی اسے صاف نہیں کر پاتی۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.