لگی ہو آگ جو کمبل کبھی اُڑایا ہے — خواجہ حیدر علی آتش
“When the blanket caught fire, did you ever fling it off? O naked one, what could the warmth of a shawl have done for you?”
معنی
جب کمبل میں آگ لگ جائے تو کیا کبھی اُسے اُڑا کر پھینکا ہے؟ اے برہنہ تن، دوشالے کی گرمی تیرے کس کام کی تھی۔
تشریح
اس شعر میں آگ اور کمبل کی انوکھی تصویر ہے — جب اوڑھنے والا کمبل ہی آگ پکڑ لے تو اسے چمٹائے رکھنے کا کیا فائدہ، اُسے تو جھٹک دینا ہی بہتر ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جو شخص ہر تعلق سے بے نیاز اور برہنہ ہو چکا ہو، اُس پر دنیا کی آسائش اور دوشالے کی گرمی کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ یہ فقیری اور استغنا کی وہ کیفیت ہے جہاں انسان مال و متاع اور عیش و آرام سے بالاتر ہو جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
