دیا نوشتہ نہ اُس بت کو دل کے توڑے مین — خواجہ حیدر علی آتش

دیا نوشتہ نہ اُس بت کو دل کے توڑے مین خدا کے گھر کا بھلا مین قبالہ کیا کرتا

“I gave no written deed to that idol in the breaking of my heart— how could I draw up a title-deed to the house of God itself?”

— خواجہ حیدر علی آتش

معنی

میں نے اپنے دل کے ٹوٹنے کے وقت اُس بت کو کوئی تحریری دستاویز نہ دی؛ بھلا میں خدا کے گھر کا قبالہ کیسے لکھ دیتا؟

تشریح

اس شعر میں شاعر دل کو خدا کا گھر کہنے کی روایت سے کھیلتا ہے۔ جب اُس نے اپنا ٹوٹا ہوا دل اُس بُت یعنی محبوب کے حوالے کیا تو کوئی لکھا ہوا قبالہ یا ملکیت نامہ نہ دیا—اور دیتا بھی کیسے، کیونکہ یہ دل تو خدا کا گھر ہے، اور خدا کے گھر کا قبالہ بھلا میں کسی کے نام کیونکر لکھتا؟ یوں عشق، وفا اور دل کی پاکیزگی کا ایک نازک اور گہرا تعلق اُبھرتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.