بلائے بد ہوئی داغون سے سردی کافور — خواجہ حیدر علی آتش
“The cold of camphor turned to deadly scourge from these scars I bear; what kindly dealing could the hailstorm show to tender crops laid bare?”
معنی
داغوں کی وجہ سے کافور کی ٹھنڈک ایک بری بلا بن گئی؛ بھلا ژالہ کھیتی کے ساتھ کوئی اچھا سلوک کیسے کر سکتا تھا۔
تشریح
اس شعر میں شاعر کافور کی ٹھنڈک کو، جو عموماً راحت دیتی ہے، ایک آفت میں بدلتا ہے، کیونکہ دل کے داغوں نے ہر سکون کو بھی عذاب بنا دیا ہے۔ دوسرے مصرعے میں ژالہ اور نازک کھیتی کا بیان ہے: جیسے اولے کبھی کومل فصل پر مہربانی نہیں کر سکتے، ویسے ہی غم اور زمانہ دل پر رحم نہیں کرتا۔ گہرائی میں یہ اُس درد کی بات ہے جہاں ہر وہ چیز جو راحت دینی چاہیے، خود تکلیف کا سبب بن جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
