نہ کھایا غصّہ کبھی خوانچہ سے قسمت کے — خواجہ حیدر علی آتش
“I never swallowed the anger served from fate's own tray; that morsel stuck within my throat—what could I do with it?”
معنی
میں نے قسمت کے خوانچے سے پیش کیے گئے غصے کو کبھی نہ نگلا؛ جو نوالہ میرے حلق میں پھنس گیا، اُس کا میں کیا کرتا۔
تشریح
اس شعر میں شاعر قسمت کو ایک خوانچہ اٹھائے پھیری والے کی مانند دکھاتا ہے، جو اپنی طشتری میں غصّہ اور تلخی پیش کرتا رہتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ وہ غصّہ میں کبھی نگل ہی نہ سکا—وہ تو میرے حلق میں ایک نوالے کی طرح اٹک گیا، نہ نگلا جائے نہ اگلا جائے۔ کتنی لطافت سے وہ بتاتا ہے کہ زندگی کے دیے ہوئے دکھ انسان کے اندر کیسے اٹکے رہ جاتے ہیں، نہ پوری طرح قبول ہوتے ہیں نہ چھوڑے جاتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
