بچا کیا اسے توڑا جو سگ دریا کے — خواجہ حیدر علی آتش

بچا کیا اسے توڑا جو سگ دریا کے حباب لے کے یہ خالی پیالہ کیا کرتا

“What was left for me to break once I had broken the river's cup— having taken the bubble, what would I do with this empty goblet?”

— خواجہ حیدر علی آتش

معنی

جب میں نے دریا کا پیالہ ہی توڑ دیا تو پھر توڑنے کو کیا بچا؟ حباب لے لینے کے بعد اِس خالی پیالے کا میں کیا کرتا۔

تشریح

اس شعر میں شاعر دریا کے بلبلے کو ایک نازک پیالے کی طرح دیکھتا ہے، جو لمحہ بھر میں بنتا اور پھوٹ جاتا ہے۔ جب اس نے وہ بلبلہ ہی توڑ دیا، یعنی ہستی کی سب سے بڑی حقیقت اور فنا کو پا لیا، تو اب اس خالی پیالے کا کیا کرے؟ بلبلہ یہاں زندگی کی بے ثباتی کی علامت ہے، اور شاعر کہتا ہے کہ جب اصل کو جان لیا تو باقی ہر چیز بے معنی ہو گئی۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.