جریدہ مین رہ پر خون عشق سے گذرا — خواجہ حیدر علی آتش
“Alone I passed along love's blood-soaked path, apart from all, Why argue of my lament with the caravan's bell's call?”
معنی
میں تنہا ہی عشق کی خون سے بھری راہ سے گزرا، سب سے الگ۔ قافلے کی گھنٹی سے اپنے نالے کی بحث میں کیوں کرتا؟
تشریح
شاعر کہتا ہے کہ میں عشق کی اُس خون آلود راہ سے بالکل تنہا گزرا، قافلے سے الگ تھلگ۔ 'جرس' یعنی کارواں کی گھنٹی اُن ہمسفروں کی علامت ہے جو مل کر چلتے ہیں، اور 'نالہ' عاشق کا ذاتی غم ہے — تو وہ پوچھتا ہے کہ اُس گھنٹی سے اپنے نالے کی بحث کیوں کرتا؟ گہرائی میں یہ عشق کی تنہائی کا راز ہے: جب راہ ہی جدائی مانگتی ہو تو ساتھ چلنے والوں سے اپنے دکھ کا حساب کرنا بے سود ہے، سچا عاشق اپنا غم خاموشی سے خود ہی سہتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
