ملانہ سرو کو کچھ اپنی راستی مین پھل — خواجہ حیدر علی آتش
“Not everyone found fruit upon his chosen way; If the tulip wore not its tilted crown, what else could it do?”
معنی
سیدھے کھڑے سرو کو اپنی راستی کا کوئی پھل نہ ملا؛ اگر لالہ اپنی ترچھی ٹوپی نہ پہنتا تو اور کیا کرتا۔
تشریح
شاعر کہتا ہے کہ ہر راستبازی کو پھل نہیں ملتا — سرو اپنی سیدھائی میں کھڑا رہتا ہے مگر اسے کچھ خاص حاصل نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس لالہ اپنی ٹوپی کو ترچھا کیے، ایک مستی اور ادا کے ساتھ کھڑا ہے، اور یہی کج کلاہی اس کی پہچان اور شان بن جاتی ہے۔ گہرے مفہوم میں یہ بغاوت اور انفرادیت کی تعریف ہے — کبھی کبھی زندگی میں تھوڑی بے باکی، تھوڑا ٹیڑھا پن ہی انسان کو خاص بنا دیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
