جگر کو داغ مین مانند لالہ کیا کرتا — خواجہ حیدر علی آتش
“How could I mark my heart with scars, like the tulip's crimson stain? How could I brim this cup of mine to the lip with my own blood's rain?”
معنی
میں اپنے دل کو لالہ کے پھول کی طرح داغوں سے کیسے بھرتا، اور اپنے ہی لہو سے لبریز پیالہ کیسے بناتا۔
تشریح
شاعر خود کو لالہ کے پھول سے تشبیہ دیتا ہے، جس کے دل میں ایک گہرا داغ ہوتا ہے — گویا اُس کا دل بھی غم کے نشانوں سے بھرا ہو۔ وہ کہتا ہے کہ یہ زخم میرے اختیار میں نہیں، میں بھلا اپنے ہی لہو سے پیالہ لبالب کیسے کر دیتا؟ اِس میں عشق و غم کی وہ بے بسی چھپی ہے جو انسان کے بس سے باہر ہے — دل کا زخمی ہونا اور خون رونا تو مقدر کا لکھا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
