عروس دہر سے بوئے وفا نہیں آتی — خواجہ حیدر علی آتش
“From the bride of this world no scent of faithfulness ever comes; so tell me, what remedy could I have found for this?”
معنی
اس دنیا رُوپی دلہن سے وفا کی کوئی خوشبو نہیں آتی؛ تو بھلا میں اس کا کیا علاج یا ازالہ کر سکتا تھا۔
تشریح
شاعر دنیا کو ایک سجی سنوری دلہن کے روپ میں دیکھتا ہے — دلکش اور آراستہ، مگر اس کی خوشبو میں وفا کا کوئی نشان نہیں۔ جب بے وفائی اس کی فطرت ہی میں رچی بسی ہو تو شاعر بے بسی سے پوچھتا ہے کہ بھلا وہ اس کا کیا علاج کرتا۔ گہری بات یہ ہے کہ ایک بے ثبات دنیا سے وفا کی امید رکھنا ہی عبث ہے، کیونکہ اس کی بنیاد ہی میں بے وفائی موجود ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
