سر و سفتہ بھی ہوتا تو لطف تھا آتشؔ — خواجہ حیدر علی آتش

سر و سفتہ بھی ہوتا تو لطف تھا آتشؔ اکیلے پی کے شراب دوسالہ کیا کرتا

“Had a drunken companion been there, what joy it would have been, Aatish — / for alone, what was I to do with that two-year-aged wine?”

— خواجہ حیدر علی آتش

معنی

اگر کوئی مدہوش ساتھی ہوتا تو لطف آتا، اے آتشؔ؛ اکیلے بیٹھ کر اس دو سالہ پرانی شراب کو پی کر میں کیا کرتا۔

تشریح

آتشؔ یہاں ایک میٹھی سی شکایت کر رہے ہیں — اُن کے پاس دو سال پرانی، نفیس شراب تو تھی، مگر اُسے بانٹنے والا کوئی ساتھی نہ تھا۔ 'سر و سفتہ' یعنی ذرا سا مدہوش، جھومتا ہوا کوئی ہمنشیں اگر ہوتا تو محفل میں اصل رنگ جمتا۔ اصل بات شراب کی نہیں بلکہ ساتھ کی ہے — بہترین چیزیں بھی تنہائی میں بے مزہ لگتی ہیں، کیونکہ خوشی تبھی مکمل ہوتی ہے جب کوئی اُسے بانٹنے والا ہو۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

← Prev15 / 15